پیر 21 ستمبر 2026 - 23:45
آیت اللہ العظمیٰ شبیری زنجانی کا انتقال حوزہ علمیہ اور اہل ایمان کے لیے بڑا نقصان ہے

حوزہ/ آیت اللہ العظمیٰ حافظ بشیر حسین نجفی نے آیت اللہ العظمیٰ سید موسیٰ شبیری زنجانی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کی علمی و دینی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے انتقال کو حوزہ علمیہ اور تمام اہل ایمان کے لیے بڑا اور دردناک نقصان قرار دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ العظمیٰ شبیری زنجانی کے انتقال پر آیت اللہ العظمیٰ حافظ بشیر حسین نجفی نے تعزیتی بیان جاری کیا۔

آیت اللہ العظمیٰ بشیر نجفی کے تعزیتی بیان کا مکمل متن درج ذیل ہے:

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَا يُحْمَدُ عَلَى مَكْرُوهٍ سِوَاهُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ.

مجھے نہایت رنج و غم کے ساتھ جلیل القدر عالم دین، سماحۃ آیت اللہ العظمیٰ سید موسیٰ شبیری زنجانی قدس اللہ نفسہ الزکیہ کے انتقال کی خبر ملی۔ ان کی بابرکت زندگی علمی خدمات، دین و مذہب کی خدمت، علما و فضلا کی تربیت اور حوزہ علمیہ و اہل ایمان کو علم و معرفت سے فیض پہنچانے میں گزری۔

یقیناً ایسے جلیل القدر عالم دین کا انتقال، جنہوں نے اپنی پوری زندگی اپنے جد بزرگوار حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کی خدمت میں گزار دی، حوزہ علمیہ اور تمام اہل ایمان کے لیے ایک بڑا اور دردناک نقصان ہے۔ ان کا انتقال ان تمام لوگوں کے دلوں میں ایک گہرا خلا چھوڑ گیا ہے جو ان کے علمی مقام و فضل سے واقف تھے، ان کے شاگرد تھے یا ان سے محبت و عقیدت رکھتے تھے۔

اس غمناک موقع پر میں اپنے آقا و مولا حضرت ولی اللہ الاعظم، صاحب العصر و الزمان ارواحنا لتراب مقدمه الفداء، حوزات علمیہ، علمائے کرام اور تمام اہل ایمان، بالخصوص ان کے معزز خاندان، شاگردوں اور محبین کی خدمت میں دلی تعزیت اور صمیم قلب سے تسلیت پیش کرتا ہوں۔

ہم اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ اس خوش نصیب مرحوم کو اپنی وسیع رحمت اور رضوان میں جگہ عطا فرمائے، انہیں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی پاکیزہ آل صلوات اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ محشور فرمائے اور ان کی جدۂ طاہرہ، صدیقۂ کبریٰ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شفاعت نصیب فرمائے۔

پس ان کے لیے اس سے بڑھ کر سعادت اور خوش بختی کیا ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے پاکیزہ اجداد کے جوارِ رحمت کی طرف رخصت ہوئے۔

إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ

بشیر حسین نجفی

9 ربیع الآخر 1448ھ

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha